معذور شخص کے دماغ میں بیرونی طور پر لگائی برقی چپ سےجسم میں احساس پیدا

33 نیوز” لانگ آئی لینڈ کے رہائشی کائتھ تھامس کو 2020 میں ایک شدید حادثے کا شکار ہونے کی وجہ سے گردن کے مہرے اور نیچے کا نظام شدید مجروح ہوا تھا۔ اس حادثے کے باعث ان کا بازو اور نچلا دھڑ بالکل بے کار ہوگیا تھا۔ البتہ، اب ایک نئی چپ کے ذرائع سے ان کے پرانے حالت سے بہتر ہونے کی امید ہے۔معذور شخص کے دماغ میں بیرونی طور پر لگائی برقی چپ سےجسم میں احساس پیدا

اس مصنوعی ذہانت پرمشتمل نئی چپ کے استعمال سے ان کی ٹانگوں اور ہاتھوں میں احساس پیدا ہوا ہے۔ ان کے بازو اور انگلیاں ہل رہی ہیں۔ اور مزید بہتری کی امید موجود ہے۔ یہ مائیکروچپ، بیرونی کھوپڑی پر لگایا گیا ہے۔ جو مصنوعی ذہانت کے تحت سگنل خارج کرتی ہے۔ اور مریض کے احساس کو بہتر بناتی رہتی ہے۔ یہ چپ ایک بڑے کمپیوٹر نظام تک جا رہی ہے۔ جہاں سے ہدایات اور پروسیسنگ کا کام ہوتا ہے۔ ماہرین نے اسے “ای آئی انفیوزڈ سرجری” کہا ہے۔ جو کہ انسانی صحت کے لئے ایک بڑا اقدام ہے۔

معذور

یہ تجربات انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن برین میپنگ کے سربراہ ڈاکٹر اشیشی مہتا اور ان کے ساتھیوں نے کئے ہیں۔ یہ سرجری کا عمل بہت مشکل اور صبر آزما تھا۔ جس میں کل 15 گھنٹے لگے ہیں۔ اس عمل کے ذریعہ برقی تکنیک سے ہاتھ، پاؤں، کمر اور حرام مغز میں پہلی مرتبہ احساس پیدا کیا گیا ہے۔ جو ایک نئی پیشرفت ہے۔
انسٹیٹیوٹ آف ہیومن برین میپنگ کے سربراہ ڈاکٹر اشیشی مہتا اور ان کے ٹیم نے اس تجربے کے ذرائع سے انسانی ذہانت کے شگافوں میں ایک نئی کامیابی حاصل کی ہے۔ اس عمل کے دوران 15 گھنٹے کا طویل وقت درکار تھا۔ جو ایک مقداری صبر اور استقامت کی مانند مشکل آزمائش تھا۔
معذور شخص کے دماغ میں چپ

اپنا تبصرہ بھیجیں