40

اکتالیس مہینے


ٹھارہ اگست دوہزاراٹھارہ کے روز عمران خان نے پاکستان کے 22ویں وزیراعظم کے طور پر عہدے کا حلف اٹھایا۔ بیس اگست دوہزاراٹھارہ کے روز اُس وقت کے صدر مملکت ممنون حسین نے نئی وفاقی کابینہ سے حلف لیا جس میں 16 وزراء اور 5 مشیر شامل تھے۔ اگر ہم موجودہ وفاقی حکومت کے 41 مہینوں پر پھیلی کارکردگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یہ ملے جلے نتائج کی حامل ہے۔کچھ شعبوں میں بہتری سامنے آئی ہے اور معاشی اشارے مثبت جا رہے ہیں تو کچھ شعبوں میں مسائل بدستور موجود ہیں۔اِس دوران 4 مرتبہ وزرائے خزانہ تبدیل کئے گئے اور یوں ہر وزیر خارجہ کو اُوسطاً 10 مہینے کا وقت ملا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب کچھ معاشی اہداف کے حصول اور ایجنڈے پر عملدر آمد میں تیزی کیلئے کیا گیا تاہم بین الاقوامی سطح پر ناموافق حالات سے یہ ممکن نہ ہوسکا۔ اس مقصد کیلئے تمام ممکنہ تدابیر کو بھی آزمایا گیا۔پاکستان کی 74 سالہ تاریخ میں 44 ایف بی آر کے سربراہ تبدیل ہوئے جن میں گزشتہ 41 مہینوں کے دوران تبدیل ہونے والے 8 ایف بی آر چیئرمین بھی شامل ہیں۔ اِسی اکتالیس مہینے کے عرصے میں 6 فنانس سیکرٹری بھی تبدیل ہوئے جن میں سے ہر ایک کی اوسط مدت سات ماہ بنتی ہے۔ صوبہ پنجاب میں 7 انسپکٹر جنرل (پولیس کے صوبائی سربراہ) تبدیل کئے گئے یوں اوسطاً ہر انسپکٹر جنرل 6 ماہ تعینات رہا۔پاکستان کی 74 سالہ تاریخ میں صوبہ پنجاب نے 51 انسپکٹر جنرل پولیس دیکھے جبکہ صرف 41 مہینوں میں 7 انسپکٹر جنرل تبدیل کئے گئے۔ اب جبکہ تھوڑا عرصہ رہ گیا ہے تو مذکورہ بالا اقداما ت کے نتائج کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سال 2018ء میں مجموعی قومی قرض اور دیگر واجب الادأ مالیاتی ذمہ داریوں کا حجم 30کھرب روپے تھا جس میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔ تاہم ا سکے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر قرضوں کی واپسی بھی ہوئی ہے جو پچھلی حکومتوں کے مقابلے میں کہیں بہت زیادہ ہے۔سال 2018ء میں گندم کے آٹے کی قیمت 35 روپے فی کلوگرام تھا جو بڑھ کر 75 روپے فی کلوگرام ہو چکی ہے سال 2018ء میں چینی کی فی کلوگرام قیمت 55 روپے سے بڑھ کر 120 روپے فی کلوگرام ہو چکی ہے توسال 2018ء میں بجلی کی فی یونٹ قیمت 11 روپے سے بڑھ کر 23 روپے فی یونٹ ہو چکی ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ تلخ ہے کہ پاکستان کے معاشی و اقتصادی مسائل میں اِس حد تک اضافہ ہو چکا ہے کہ اب صرف تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کی قیادت کیلئے بھی ممکن نہیں رہا کہ وہ اِنہیں کسی جادوئی چھڑی کو گھما کر ٹھیک کر سکیں اور یہ مسائل تمام موجودہ حکومت کے دور میں نہیں بڑھے بلکہ ماضی کی حکومتوں سے وابستہ بہت سے مسائل بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گھمبیر ہوتے گئے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں